وہ ایک دن کیٹ چوپنز کی کہانی ’’ سلک سٹاکنگز ‘‘ کا رواں ترجمہ ۔ امِ احمد
مسز سومرز کی زندگی بہت ہی مصروف تھی ۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ۔سب ہی سکول جانے والے تھے ۔ ان بچوں کی ضروریات کو پورا کرنا اور گھر کے نا ختم ہونے والے کام …..زندگی ایک لگے بندھے معمول میں دنا دھن بھاگی چلی جا رہی تھی۔
اس تھکا دینے والی مصروف زندگی میں ماہانہ لگی بندھی آمدن سے ہٹ کر غیر متوقع طور پر ملنے والی پندرہ ڈالر کی رقم نے گویا ایک ہلچل مچا دی۔اپنے خستہ حال بٹوے میں پندرہ ڈالر کے نوٹ دیکھ دیکھ کر وہ پھولے نہیں سما رہی تھی ۔ نہ جانے کتنے عرصے بعد اسے اپنا آپ بڑا اہم محسوس ہؤا۔
کئی روز تک تو وہ اسی ادھیڑ بن میں رہی کہ اس رقم کو کہاں اور کیسے خرچ کرے ۔ وہ کسی جلد بازی میں اس کو ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی جس کا اسے بعد میں پچھتاوا رہتا بھلا اضافی رقم کون سا روز روز مل جاتی ہے دن بھر وہ اسی سوچ بچار میں رہتی اور رات کو بستر پر لیٹتی تو بھی جمع تفریق کرتی رہتی ۔ کبھی سوچتی کہ بچوں کے ذرا مہنگے جوتے خرید لیتی ہوں کچھ دیر تو چلیں گے ۔ کبھی خیال آتا…

