ام ریحان

میری چھوٹی خالہ ۔ ام ریحان

زندگی فانی ہے اور صرف اللہ کی ذات حی القیوم ہے۔ عارضی حیات سے فنا اور پھر ہمیشہ کی زندگی ۔ان مراحل سے گزرنا ہر انسان کا مقدّر ہے۔
خوش نصیب ہوتے ہیں جو اپنے تمام دنیاوی معاملات،سب کٹھن امتحان اور سارے مشکل پرچے کامیابی سے حل کر کے اپنے رب کے حضور پیش ہو جاتے ہیں۔جو اپنے نہ مٹنے والے نقش اہل دنیا کے دلوں پر کندہ کر جاتے ہیں۔جو ہمیشہ کے لیے اپنی کمی چھوڑ جاتے ہیں۔جن کی یادیں اور نیک اعمال روح میں اتر کر ذات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ایسے ہر تعلق اور ہر رشتے کی اپنی اہمیت اور مقام ہوتا ہے۔ دل میں ان کی اپنی ایک جگہ ہوتی ہے جو ان کے جانے کے بعد خالی ہی رہتی ہے اسے کوئی اور نہیں بھر سکتا۔
خالہ کو پنجابی زبان میں ماسی کہتےہیں یعنی ماں جیسی (ماں سی)۔ مجھے اپنی دونوں خالاوں سے یکساں محبت تھی لیکن اس محبت کی کیفیت جدا جدا تھی۔
بڑی خالہ کی متاثر کن شخصیت میں رعب اور وقار تھا تو چھوٹی خالہ سے تعلق میں بے تکلفی بھرا احساس تھا۔چھوٹی خالہ (عابدہ اشرف) خوش مزاج اور حاضر جواب تھیں بات کرتے کرتے اچانک کوئی چٹکلہ چھوڑ دیتیں ،موقع کی مناسبت سے کوئی…

مزید پڑھیں