تبسم یاسمین

کہکشاں یادوں کی – تبسم یاسمین

وقت کے ساتھ ساتھ نقطے جڑتے جاتے ہیں اور اللہ کی مشیت کے خدو خال واضح ہوتے جاتے ہیں۔ صفوریٰ نعیم مرحومہ کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کی قیمتی یادیں صفوریٰ باجی سے میری پہلی ملاقات غالباً 1975 یا 76 کی گرمیوں میں ان کی امی کے گھر واقع حسین ڈی سلوا میں ہوئی تھی جب وہ امریکہ سے اپنےگھرملنے آئی ہوئی تھیں۔ان کی چھوٹی بہن سائرہ فیض میری دوست اور سرسید کالج کی جمعیت کی ناظمہ تھیں،اسی حوالے سے میرا وقتاً فوقتاً ان کے گھر آنا جانا رہتا تھا۔
گھرانہ بہت دین دار تھا ،البتہ امریکہ سے آئی ہوئی بیٹی کے طور طریقے خالہ جان کو خاصا پریشان کرتے تھے ۔ صفوریٰ باجی اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں ، ماں کا دل ان کے لیے زیادہ فکرمند رہتا تھا ، پھر وہ دُور بھی تھیں اور اس زمانے میں کمیونیکیشن کے ذرائع بھی بہت محدود تھے۔
میں اس وقت کی صفوریٰ باجی کو یاد کرتی ہوں تو ایک مغربی حلیے والی اسمارٹ سی(خیر اسمارٹ تو وہ ہمیشہ ہی رہیں) خاتون یاد آتی ہیں جن کے بہت گھنے کٹے ہوئے بال کانوں تک تھے۔
ان کے واپس چلے جانے کے بعد سائرہ نے ان کا دیا ہؤا پرفیوم یہ کہہ…

مزید پڑھیں