صلہِ خونِ شہیداں آزاد وطن کی خاطر ہجرت کرنے والے ایک قریبی گھرانے کی داستان – بتول اگست ۲۰۲۴
ہمارا گھر ضلع ہشیار پورمیں برنالہ گائوں میں تھا ۔ یہ گائوں تحصیل دسوعہ میںتھا ۔ وہاں کئی گائوں کے ناموں کے ساتھ برنالہ کا لفظ لگا ہوتا تھا۔برنالہ کا مطلب ہے نالہ کے کنارے تو نالہ ( پانی کی ندی) کے ساتھ ساتھ واقع کئی گائوں کا نام برنالہ تھا ۔
ہمارے گائوں میں ایک بڑا تالاب تھا جو بارش کے پانی سے بھر ا رہتا تھا ۔ اُس سے مویشی پانی پیا کرتے تھے ۔ ہم اس میں نہا یا بھی کرتے تھے ۔ گائوں کی عورتیں وہاں کپڑے دھونے بھی آیا کرتی تھیں ۔ میری عمر اُس وقت کوئی دس سال تھی لیکن مجھے سب کچھ اچھی طرح یاد ہے ۔ گائوں میں ہندو، سکھ ، مسلمان سب آپس میں پیار محبت اور سلوک کے ساتھ رہتے تھے ۔ آپس میں اچھی دوستیاں اور اچھے تعلقات تھے ۔ ہم اکثر ہندوئوں کے تہوار دیوالی اور دسہرہ دیکھنے جایا کرتے تھے اور ہندو ہماری عید کی خوشیوں میں شریک ہوتے تھے ۔
اتنا اچھا ماحول تھا کہ گھروں کے دروازے بند نہیں کیے جاتے تھے اور رات کو ہم مکانوں کی چھتوں پربڑے مزے سے سوجایا کرتے تھے ۔ دکانیں زیادہ ترہندوئوں کی تھیں اورمسلمان اکثرکھیتی باڑی کرتے تھے ۔…

