دانش یار؎۱

تیمار داری –دانش یار؎۱

’’ آپ نے اپنے والد مرحوم کی خدمت ،تیمار داری اور بہترین علاج میں بے مثال لگن اور دل جمعی کا ثبوت دیا ہے ‘‘۔
ممتاز احمد بٹ نے افتخار انصاری پولیس کے اسٹیشن ہائوس آفیسر (SHO) کے والد کی رحلت پر تعزیت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔ کیونکہ افتخار انصاری نے اپنے والدکی طویل علالت میں شب و روز ایک کر دیے تھے ۔ اور جاننے والے اسے خوب داد دیتے تھے کیونکہ ان کے والدکو بستر علالت پر دن میں کئی دفعہ ان کی توجہ کی ضرورت پڑتی تھی اور انہیں اپنے لباس اور بستر کی صفائی بلکہ دھلائی کا سانحہ بار بار پیش آتا تھا اور تیمار دار کو ہر لمحہ مستعد رہنا پڑتا تھا اورلباس کے متعدد جوڑے تیار رکھنے ہوتے تھے ۔ والدین کی خدمت میں یہ حکم ہے کہ اولاد ان کی سہولت اور عافیت کی مشقت برداشت کرتے ہوئے کبھی اُف تک نہ کرے ۔ ایک مفسر نے ’’اُف‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے یوں لکھا تھا کہ اولاد خدمتِ والدین کی ایسی حالت میں کبھی منہ نہ سکیڑیں، بلکہ نہایت خوش مزاجی سے ایسا مظاہرہ کریں کہ والدین یا جو بھی مریض ہو کسی ناگواری کے احساس کا مشاہدہ نہ کریں اور افتخار انصاری…

مزید پڑھیں