راشد حمید خان

امی ! – راشد حمید خان

کیا کہا جائے اور کیا لکھا جائے ۔ فقط اس کے کہ مرنے والی کی یادیں ہیں آہیں ہیں اور اِن یادوں سے اکتساب نور ہے۔ یہ ایک عجیب ہستی کی داستانِ حیات ہے جسے خلقِ خدا نے بے انتہا چاہا، عقیدت اور عزت دی، نہ انہیں نام و نمود کی خواہش نہ ستائش کی تمنا اور نہ صلے کی پروا۔ ایسے لوگ دنیا میں کمیاب ہی نہیں ، نایاب ہوتے ہیں بلکہ نادر و نایاب ۔ آپ چراغ لے کے بھی ڈھونڈیں تو شاذ ہی کبھی کوئی مل پائے گا ۔آپ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ کس طرح اللہ کی رحمت ان ہستیوں پہ ٹوٹ کے برستی ہے ۔ ایسے لوگ کبھی کبھی کہیں کہیں ملتے ہیں کسی بستی میں کسی قریہ میں ، جب تک کہ گردشِ لیل و نہار قائم ہے ۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ زمین پر اللہ کا نام لینے والا ایک بھی نہ ہوگا، تب قیامت قائم ہوگی۔
والدہ محترمہ عام عبادت گزاروں سے قدرے مختلف، کچھ سوا اور سچ تو یہ ہے کہ بہت کچھ سوا ۔ ایک سچا مسلمان تعصبات سے آزاد ہوتا ہے شاید اس لیے بھی کہ کوئی ضرورت مند محروم نہ رہ جائے، جو بھی چلا آئے…

مزید پڑھیں