رافعہ قیوم

چراغم باتو سوزم، بے تومیرم – رافعہ قیوم

امی جی جو ہماری نانی جان تھیں، اگرچہ ہماری زندگی کا کوئی بھی پہلو اُن کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں اور ان کی باتوں سے جی نہیں بھرتا،مگر ان کی ذات سے جُڑے اس تعلق پرلکھنا کس قدر مشکل ہو سکتا ہے،اس کا اندازہ نہیں تھا۔ الفاظ ساتھ نہیں دے رہے اور ربط ہے کہ ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک نیوکلئیس جس کے گرد ہماری پوری دنیا گھومتی تھی، وہ ختم ہوگیا، کوئی محرومی سی محرومی ہے ، اور کس میں یارا کہ اس محرومی کو الفاظ میں بیان کر سکے۔
لوگ عام طور پر ماں باپ کے گھر کو میکہ کہتے ہیں مگر میری لغت میں امی جی کا گھر ‘جگت میکہ ‘ہے۔اچھرہ میں اس گھر کی بنیاد مولانا محترم نے رکھی اور اس کا نام دارالعباد طے پایا۔ اور پھر چشمِ زمانہ گواہ ہے کہ کیسے یہ دارالعباد ہمیشہ لوگوں سے بھرا رہا۔ اکرام اور اہتمام اس گھرانے کی اہم ترین خصوصیات ہیں۔ ہم نے ہمیشہ تمام لوگوں کے لیے جو کسی بھی حوالے سے امی جی یا ابا جی (نانا جان اور نانی جان) سے ملنا چاہتے تھے، ایک جیسی توجہ، اکرام، التفات اور اہتمام پایا جس سے ہر ملنے والا باغ باغ ہو جاتا۔یہ گھر امی…

مزید پڑھیں