سلوت ملک

قدر دان اس کی کہانی جس کا منصوبہ مکمل تھا مگر بازی الٹ گئی تھی – سلوت ملک

کچن میں ناشتے کے برتنوں کا انبار لگا تھا۔ رات کے برتن بھی ابھی اسی طرح پڑے تھے ۔ دو دن سے کام والی بھی نہیں آئی تھی۔ اماں پانی لینے کچن میں آئیں تو سر گھوم گیا ۔ پانی لیے بغیر ہی مڑ گئیں۔
’’ کیا بنے گا اس گھر کا ؟‘‘
وہ غصے میں بڑ بڑاتی ہوئی جا رہی تھیں۔لائونج میں سے گزریں تو شمسہ سکون سے اشراق کی نماز پڑھ رہی تھی۔
’’ بس نمازیں ہی پڑھتی رہنا ۔ کوئی اور کام نہیں ‘‘۔
شمسہ نے سلام پھیر کر آواز دے کر پوچھا ۔
’’اماں کچھ چاہیے تھا ؟مجھے بلا لیا ہوتا ‘‘۔
’’ کچھ نہیں چاہیے‘‘۔ اماں نے غصے میں تقریباً غرانے کے انداز میں کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
شمسہ نے ان کے طنز کو مکمل انداز کرتے ہوئے سوچا۔
’’ ضرور اماں کو پانی چاہیے ہوگا۔ دوائی جو لینی ہوتی ہے ‘‘۔
اسی وقت اٹھ کر کچن سے پانی کا گلاس لیا اور اماں کے کمرے میں گئی۔
’’ اماں پانی تو نہیں چاہیے؟ آپ نے دوائی لینی ہے؟‘‘
اماں نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
’’ کیسے پڑھ لیتی ہے یہ میرا ذہن ؟‘‘ ایک لمحے کو ذہن نے اعتراف کیا اس کی خوبی کا ، اس کی تابعداری اور محبت کا ،…

مزید پڑھیں

منزل تخلیق کے لمحوں میں وہ صرف اپنے ضمیر کے آگے جواب دہ تھا۔ ایک نوجوان کی کہانی جسےاپنا راستہ خود بنانا تھا ۔ سلوت ملک

ناشتہ کرتے ہوئے ، وہ چولہے کے قریب پیڑھی پر بیٹھا، ایک ہاتھ میں چائے کی پیالی اور دوسرے ہاتھ میں اخبار تھامے، نوکریوں کے اشتہاروں کا صفحہ انہماک سے پڑھ رہا تھا۔ یہ روز ناشتے کی روٹین تھی۔ کچھ جگہیں نوٹ کر لیتا اور تلاش میں نکل کھڑا ہوتا۔ شام کو نامراد لوٹتا لیکن چہرے پر کوئی شکن، کوئی ملال نہ ہوتا۔ اگلے دن پھر اسی انہماک سے شروع ہو جاتا۔
اماں قریب پیڑھی پر بیٹھیں چائے میں روٹی ڈبو ڈبو کر کھا رہی تھیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں پنکھا اٹھا کر اسے جھل دیتیں چاہے کوئی مکھی مچھر نہ بھی ہو۔ بس ان کی تسلی ہو جاتی۔
گھر میں بچوں کا شور و غل مچا تھا۔ تینوں بڑی بہنیں بچوں سمیت آئی ہوئی تھیں۔
اخبار میں چند ایک اشتہاروں نے اسے متوجہ کیا۔ غور سے انہیں پڑھنے لگا۔ پھر پیالی ایک طرف رکھ کے پنسل اٹھائی اور نشان لگانے لگا۔
’’انہیں چیک کیا جا سکتا ہے‘‘وہ ذہن میں سوچ رہا تھا۔
ابا کچھ دور چارپائی پر بیٹھے، حقہ ہاتھ میں پکڑے، کن اکھیوں سے اسے گھور رہے تھے۔ کچھ دیر بعد بولے۔
’’کیوں میاں؟ کوئی خوش خبری ہے تمہارے لیے؟‘‘
وہ ان کے لہجے کا طنز محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا، لیکن مسکرا کر…

مزید پڑھیں