اِک پھول کامضموں ہو توسو رنگ سے باندھوں ۔ شاہدہ کرام
حویلی کے سامنے آہنی دروازہ کے پارکھلی سڑک پر کھیل کی دیوانی اپنی باری کی حریص شاہ زادی کی نظریں سٹاپو سے ہٹ کر کہیں اور ہی ٹک گئی تھیں ۔ہمجولیاں سکتہ کے عالم میں اُسی سمت تکنے لگ گئیں ۔اُڑتی دھول کے سوا انہیں تو کچھ نظر نہ آرہا تھا ۔ یکدم شہزادی نے گیند کودُور اُچھالا اور سر پٹ سامنے سیدھی سڑک پر دوڑ لگا دی ۔سکھیاں آواز یں دیتی رہ گئیں اور وہ ہرنی کی سی قلابیں بھرتی نظروںسے اوجھل ہو گئی اور رُکی تو اماں کی بغل میں جا کر ۔ جو ابا کی خدمت گزاری سے فراغت و اجازت پاکر دنوں بعد اپنے بھائی کے گھر خیر خیریت کاپتہ کرنے گئی تھیں۔
شاہ زادی نے اماں کا بازو پکڑ زور زور سے کھینچنا جو شروع کیاتو وہ بھی پریشانی میں بول اُٹھیں۔
’’ کچھ بتائو تو سہی کیا ہؤا ؟‘‘
نظر جواٹھائی تو شازو شدت جذبات سے سرخ چہرہ لیے اماں کو اور زور سے کھینچنے لگی۔
’’ گھرچلیں جلدی کریں ‘‘ سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا ، اور چہرہ تو ویسے ہی قندھاری انار کی طرح سرخ رہتا تھا ۔ آج تو دو چندہو رہا تھا۔
’’ اللہ خیر کرے ، یہ لڑکی تو اپنی کھیل اور باری…

