کشکول ۔ عطیہ جمال
پانچ بجے میں گھر میں داخل ہؤا تو ملازم نے بتایا ’’صاحب لینڈ لائن پر آپ کے لیے صبح سے دو دفعہ فون آ چکا ہے‘‘۔
میں نے اچھا کہا اور واش روم کی طرف چل دیا۔ جاتے جاتے اسکرین پر دیکھا، کسی اولڈ ایج ہاؤس کا نمبر تھا۔
کمرے میں داخل ہو کر ملازم خالد نے سوال کیا’’ چائے لاؤں صاحب؟‘‘
’’ نہیں‘‘۔ میں نے جواب دیا’’دوبارہ ضروری کام سے جانا ہے‘‘۔
رات 10 بجے میں گھر آیا تو ملازم میرا حلیہ دیکھ کر چونک گیا۔ میری لال آنکھیں اور بکھرا بکھرا حلیہ تھا۔ کسی سے بات کیے بغیر کمرہ بند کرکے سونے کا کہہ کر اندر چلا گیا۔
میں آپ کو کچھ تفصیل بتا دوں۔ میں بختیار احمد اس سرزمین کا باسی جب بنا جب 1971میں بنگلہ دیش بنا یعنی مغربی پاکستان کا ایک بازو کٹ گیا۔ بھائی سے بھائی جدا ہو گیا۔ وہ ساری ایک المیہ کہانی ہے۔ میں اور میرے خاندان کے ساتھ کیا کیا اور کیسے مظالم ہوئے بیان سے باہر ہے۔ اماں ابا اور دو بہنیں نیزوں پر اچھالے گئے۔ میں اس وقت 15 سال کا تھا۔ چھپ کر اور جان بچا کر رشتے کے ایک چچا کے گھر پناہ لی۔ وہ بڑا مشکل کا وقت تھا۔ میں اور…

