روحِ آزادی – بتول اگست ۲۰۲۴
اک خواب جو شاعر نے دیکھا،تعبیرکے سچے رستے کا
اک رازکہ اس میں پنہاں تھا تعمیر کے بستے نقشے کا
ایمان کے عزم و ہمت نے کردار کی اعلیٰ طاقت نے
تعبیر کو اس کا روپ دیا،سرشارسی ایک صداقت نے
تصویر کا نقشہ خوب دیا افکار نہاں کی جرأت نے
بنیاد میں جس کی کلمہ تھا لاریب وہی یہ خطہ ہے
اس کلمے کا ہی صدقہ ہے اب جو بھی روشن رستہ ہے
قربان کیے تھے جان و تن تب جا کے ہؤاآزاد وطن
ہر آن لٹاتے لعل و گہر کیا شعر و سخن کیا فکروفن
سب رکھتے تھے بس ایک لگن کیا پیر و جواں کیا مردوزن
تاریخِ وطن یہ کہتی ہے آسان نہ تھا کچھ اتنا بھی
اک لمبے سفر پہ نکلے تھے سامان نہ تھا کچھ اتنا بھی
اک عشق میں تھا بس مر جانا اک آتش میں تھا جل جا نا
یہ کلمہ گویا دیپک تھا اور ہر اک تھا بس پروانہ
آزاد نگر کے جذبے سے کس کس نے کیا کیا وار دیا
آباد نگر کے صدقے میں سر نذر کیے گھر بار دیا
تب جا کے ملا تھا پاک وطن تھی ارضِ وطن ہر دل کی لگن
کچھ رنگ و زباں کے پرچم تھے لگتے جو اپنے ہمدم تھے
کچھ رزق کے موقع کم کم تھے دشمن کے…

