عظمیٰ نسیم احمد

بتول میگزین – عظمیٰ نسیم احمد

صبح کا ستارہ
عظمیٰ نسیم احمد۔کراچی
حلق میں بار بار آنسوؤں کا گولہ سا اٹک جاتا ہے اور اسے زبردستی حلق میں پیچھے کی جانب دھکیلنا پڑتا ہے، آنکھوں کے کنارے نہ جانے کب تک صاف کرنے پڑیں گے اور دھندلائی نگاہیں پچھلے کتنے مناظر سے کتنی دفعہ منہ چراتی رہیں گی،آج دیر رات سے یہ ہی سوال بار بار دل پہ ایک بھاری بھرکم بوجھ ڈالے اٹھ رہا ہے ‘ دم گھٹنے لگتا ہے سوچ کر کہ جن آنکھوں کو آج ایک جسد خاکی کے چہرے پر سجا دیکھا ہے پچھلے دو سال سے انہی آنکھوں کے ذریعے غزہ کا چہرہ دیکھ رہی تھی خوفزدہ تھی کہ اب کیا ہوگا اب میرے جیسے نابیناوں کو کون بیت المقدس، غزہ ،رفح اور خان یونس کی تڑپتی سسکتی مرے ہوئے سے بدتر زندگیاں دکھائے گا لیکن وہ آنکھیں بے شک انس الشـ.ـریف کے مردہ جسم کے چہرے پر تھیں لیکن ان آنکھوں کی زندگی بہت سے زندہ وجود سے زیادہ جاگتی ہوئی ‘ چوکنا ، ہر ایک کے زخم پر نگاہیں گاڑے ہوئے ہر خالی برتن کو بھر دینے کی چاہ میں ، ایک آزاد فلسطین میں سحر خیزی کرنے کی امید میں ہم مسلمانوں سے زیادہ زندگی رکھتی تھیں زندہ آنکھوں کا…

مزید پڑھیں