عمار وحید خان

میری باہمت امی – عمار وحید خان

امی کے بارے میں لکھنے بیٹھا ہوں اور سوچ رہا ہوں کیا اور کیسے لکھوں ۔پچھلےتیس بتیس سالوں سے میرا قلم محض امراض کی تشخیص ، نسخے، ادویات یا تحقیقی طبی مقالے لکھتا آیا ہےجس میں ذاتی جذبات کے بجائے صرف پیشہ ورانہ حقائق مد نظر ہوتے ہیں لیکن اس تلخ حقیقت کا ادراک پہلے کہاں ہوتا ہے حتیٰ کہ کوئی عزیز از جان ہستی رخصت ہو جائے اور جذبات کا ایک امڈتا سمندر آنکھوں سے رواں ہو اور یہ قلم ان کی یادوں میں ڈوب کر ان کی شفقتوں اور محبتوں کے بے بہا خزینہ سے انمول موتی چن کر پیش کر سکے۔
پلٹ کر دیکھوں تو ایک لا متناہی سلسلہ ان تمام یادوں اور احساسات کا نظروں میں آن موجود ہوتا ہے۔ ایک بھرا پرا ہنستا کھیلتا گھرانہ امی ،ابا جی اور بہن بھائیوں کی خوبصورت محفلیں اٹھکیلیاں کرتے ہم شرارتی بچے بڑاسا صحن،باورچی خانہ میں بیٹھ کر اکٹھے ناشتہ کرتے ہم چھوٹے بہن بھائی اور کھل کھلا تے لہلہاتے شب و روز،جیسے پلک جھپکتے میں گزر گئے۔
بس خواب کی طرح یاد ہے ہمارے گھر کے باہر ایک ہجوم نعرے لگا رہا تھا اور کوہستان اخبار کے ملازمین جن کی تنخواہیں نہیں ملی تھیں احتجاج کر رہے تھے۔ ہم…

مزید پڑھیں