ہیںکواکب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ ۔ فرزانہ رشید
میں نے طالب علموں کے یہ ’’ علمی شہ پارے ‘‘ بڑی عرق ریزی سے ان کے پرچوں سے
اکٹھے کیے ہیں اوراس میں میرے بہت سے ساتھی اساتذہ کاتعاون بھی شامل رہا ہے
ابن آدم کی ملائکہ و جنات پر پہلی برتری علم کی بدولت ہوئی۔ انسان اپنے ارتقائی سفر سے آج تک مسلسل سیکھ رہا ہے اور سیکھنے کا باقاعدہ عمل مکتب سے شروع ہؤا اور یہ سفر سکول ، کالج ، یونیورسٹی اور تحقیق پر منتج ہؤا۔یقیناً اس سفر میں انقلاب کالج کے ظہور سے ہؤا۔ جو اب یونیورسٹیاں بن چکی ہیں ۔کالج کی سطح کے اکثر طالب علم حصول علم کے علاوہ دیگر سرگرمیوںمیں مصروف عمل نظر آتے ہیں ۔ خاص طور پر کالج کے لڑکوں کی کچھ تعداد ہلہ گلہ کرنے ، سڑک بند کروانے ، کسی کنڈیکٹر کی پٹائی کرنے اور کسی کو مل کر اٹھائے جانے کی سر گرمیوں میں رہتی ہے ۔
دس سال سکول کی گھٹن زدہ فضا میں پروان چڑھنے والا ڈر پوک بچہ کالج میں آکر یکدم ’’ سلطان راہی ‘‘ کیسے بن جاتا ہے ؟ مسلسل چھ ، سات کلاسیں پڑھنے والے طالب علم پر ایک پیریڈ پڑھنا ہی کیوں بارِ گراں ہو ؟ ان سوالات کا جواب آپ کو کالج…

