فریدہ عظیم

چھوٹی آپا – فریدہ عظیم

چھوٹی آپا میری خالہ زاد بہن ہیں۔ اتنی پیاری ، اتنی خوبصورت، خوب سیرت، ہنر مند کہ مثال نہیں ملتی۔ وہ جب چھوٹی سی تھیں تو خالہ کا انتقال ہو گیا اورننھی سی جان کو ننھیال والوں نے سنبھال لیا۔ مگر چونکہ ننھیال میں نانی اور خالائیں تو تھیں نہیں جو انھیں بہت توجہ ملتی۔ ماموں تھے اور نانا ۔ نانا اس یتیم بچی کو کندھے سے لگائے رکھتے۔ کھانے پینے کا خیال رکھتے۔ اسکول لاتے لے جاتے، یونہی وہ بارہ برس کی ہو گئیں۔
گھر میں ان کی حیثیت فالتو فرد کی سی تھی۔ چھوٹی سی عمر میں یہ احساس ننھے سے دل کو چھلنی کیے دیتا تھا کہ انھیں پیار کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ آگے بڑھ بڑھ کر اپنے ماموں زاد بہن بھائیوں کے کام کرتیں۔ ممانیوںکی چاکری کرتیں ہر ایک کو خوش کر نے کی کوشش کرتیں مگر کوئی ان سے خوش نہ ہوتا تھا۔ البتہ شکایتیں ہی رہتی تھیں۔ چھوٹی یہ ایسے کیوں کیا … ویسے کیوں کیا البتہ بچے ان سے محبت کرتے تھے۔ سب انھیں چھوٹی آپا کہتے تھے۔
اسکول میں ان کا دل نہ لگتا تھا کیونکہ گھر کے کاموں کی وجہ سے اتنی فرصت نہ ملتی تھی کہ وہ ڈھنگ سے سبق…

مزید پڑھیں

اُترن – فریدہ عظیم

’’ امی میرے عید کے کپڑے کیسے ہیں ؟ ‘‘عمارنے ماں کے گلے میںبانہیں ڈالتے ہوئے لاڈ سے پوچھا۔
’’ بہت خوبصورت بہت پیارے بالکل شہزادے لگو گے پہن کر‘‘۔
’’ دکھائیں مجھے‘‘۔ وہ بضد ہو گیا ۔
’’ابھی تو میں کام کر رہی ہوں نا ، بیٹے ، کل چانددکھے گانا تو میں استری کر کے ٹانگ دوں گی تو پھر تم دیکھ لینا‘‘ ۔
’’امی ابھی !‘‘ عمار نے ضد کی۔
’’بری بات بیٹے امی کو تنگ نہیں کرتے‘‘۔
’’اچھا بتائیے حماداللہ جیسے ہیں ؟ چچی جان کہہ رہی تھیں حماد اللہ کاسوٹ ایک ہزار کا آیا ہے اور پانچ سوکے جوتے‘‘۔
عمار کے چہرے پر رنج اور مایوسی کی جھلک دیکھ کر وہ پریشان ہوگئیں۔ ان کا دل بیٹھنے لگا ۔ خدایا میرے بچے شدید احساس کمتری کا شکار ہو رہے ہیں ، کس طرح انہیںسمجھائوں ، طلعت بیگم پریشانی سے ہاتھ مل رہی تھیں ۔ رب العالمین میں کیا کروں ان بچوں کی ننھی ننھی خواہشوںکو پورا کرنا میرے بس میںنہیں۔ ہمیں سسرال میں دو وقت کی روٹی اورسر چھپانے کو جگہ مل گئی بہت بڑی نعمت ہے ۔ورنہ میںبیوہ عورت یہ سب بھی نہیں کر سکتی تھی۔
’’امی !‘‘ عمار نے انہیںسوچوں سے نکالا ۔’’ حماد اللہ اتناگورا کیوں ہے سب کہتے ہیںوہ…

مزید پڑھیں

جب عقل بٹ رہی تھی – بتول جون ۲۰۲۳

جب عقل بٹ رہی تھی
یہ سب کہاں تھے ؟
 
معلوم ہے آپ کو جامعہ میں تین یا جوج ماجوج ہیں ۔ ویسے تو دنیا میں دو ہی ہیں مگر جامعہ اہم جگہ ہے نا ، یہاں تین ہیں !
نمبر ایک : رات والا چوکیدار مشتاق ۔ وہ سارا دن کا تھکا ماندہ ہوتا ہے ا س لیے چار پائی بچھائی ، پنکھا چلایا اور وڈیروں کی طرح لیٹ جاتا ہے۔ کوئی کام کہو تو راستہ بتاتا ہے کہ جامعہ کے نگران کو فون کر کے بتائیں کہ جامعہ میں یہ اور یہ مسئلہ ہو گیا ہے ۔ مجھے اس کی سمجھداری اور اپنی نالائقی اور کم عقلی پر شرمندگی ہوتی ہے کہ اسے معلوم ہے کام کس سے کروانا ہے ۔ چوکیدار ہے مگر رات بھر خراٹے لیتا ہے ۔ آوازیں دینے پر بھی نہیں اُٹھتا ۔ قابل رشک ہے یہ بھی کہ کسی چیز کی فکر نہیں ہے ۔ دوسرے نمبر پر ڈرائیور ہے جو شاید دنیا میں ایک ہی پیس ہے ۔ اُسے اپنے ڈرائیور ہونے پر بڑا فخر ہے ۔ جیسے خو و چودھری ہو ۔ سارا دن سوتا اور موبائل پر ٹک ٹک لگا ہوتا ہے ۔ کوئی کام کہو تو کہتا ہے کہ یہ میرا کام…

مزید پڑھیں