محمد عبد اللہ؎۱

پیارے ابّا جان – محمد عبد اللہ؎۱

اباجی27جولائی25ءبروز ہفتہ صبح3بجےہم سے جدا ہو گئے۔’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ ابا جی کومیں نے ان کی بھرپورجوانی سے لے کر بڑھاپے تک قریب سے دیکھا وہ ایک شفیق الطبع اور حیا دار انسان تھے۔میں نے کبھی انہیں امی جان سے تلخ لہجے میں بات کرتےنہیں سنا۔جب سے ہوش سنبھالا ہے مجھے نہیں یاد کہ انہوں نے مجھے کبھی ڈانٹا ہو اور پیٹا ہو۔
ابا جان نے دادا ابو اور باقی بہن بھائیوں کے ساتھ چودہ برس کی عمر میں ریاست کپور تھلہ کی تحصیل سلطان پور لودھی سے اٹھارہ کلومیٹر دور ایک گائوںصفدر پور سے پاکستان ہجرت کی۔
اس ہجرت کی داستان عجیب اور انتہائی کربناک ہے جس کو بیان کرتے ہوئے فرماتے کہ تم کیا جانو کہ پاکستان کیسے بنا اور کس طرح لوگوں نے اپنے جگر گوشوں اور ساتھیوں کوشہیدہوتے دیکھا ۔ ہمارا گھرانہ ایک مذہبی گھرانہ تھا اس لیے ہم ہندوئوں کی ہٹ لسٹ میں شامل تھے۔
سلطان پور لودھی کی ایک حویلی میں ہم قیام پذیر تھے کہ اطلاع ملی کہ سکھ جتھہ نے حملہ کر دیا ہے اور مسلمانوں کو تلواروں اور نیزوں سے قتل کر رہے ہیں، میرے بڑے بھائی جو کہ اس وقت شاید انیس برس کے تھے اپنی تلوار لے کر باہر نکلنے کا…

مزید پڑھیں