مہ جبیں عابد

چنری گاؤں ۔ مہ جبیں عابد

بہاولپور کے نزدیک عباس نگر گاؤں ’چنری گاؤں‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں کی بنی ہوئی رنگ برنگی چنریاں نہ صرف بہاولپور بلکہ پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔
چولستان میں چنری کا خاص مقام ہے اور شادی بیاہ میں جہیز اس کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
امیر مائی بچپن سے ہی خوبصورت چنریاں بناتی آئی ہیں جو اس کے علاقے کی خواتین خاص مواقعوں پر خریدتی اور اوڑھتی ہیں۔ انہوں نے 11 سال کی عمر میں اپنی نانی اور والدہ سے اس فن کو سیکھا اور پھر اپنی اولاد کو سکھایا۔وہ بتاتی ہیں کہ ان کی نانی اور والدہ چنریاں بنا کر بھارت تک لے کر جاتی تھیں بیچنے کے لیے۔انہوں نے کہا:’پہلے صرف چولستان کی خواتین ہی اس کو پہنتی تھیں لیکن اب بہاولپور کی چنریوں کی پوری دنیا میں مانگ ہے۔‘
55 سالہ امیر مائی کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان صدیوں سے اس فن سے منسلک ہے اور انہوں نے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ پورے عباس نگر کو یہ فن سیکھایا ہے اور اب تقریباً پورا گاؤں اس کام سے منسلک ہے۔
امیر مائی کا کہنا تھا: ’یہ کام مشکل اور محنت طلب ہے۔ سب سے پہلے ہم کپڑا لیتے ہیں، اگر…

مزید پڑھیں