مکان‘ فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں! ۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
چھے دہائیوں پر مشتمل اپنی اس مختصر سی زندگی کہ جس کا بیشتر حصہ صرف چار مکانوں میں گزر گیا، پہ غور کرتا ہوں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ دو کمرے، ایک رسوئی والے کچے مکان سے شروع ہوئی تھی اور ایک دن کسی دو گز کے بغیر رسوئی اور رسائی والے کچے مکان پہ اچانک ختم ہو جائے گی۔ مذکورہ گھر کا مناسب سا ایک ایسا صحن تھا، جس سے متعلق سبطِ علی صبا جیسے حسّاس شاعر کو بجا طور پر یہ کہنے کی تحریک ہو سکتی کہ: لوگوں نے مِرے صحن میں رستے بنا لیے صحن کو ایک دوشاخی اور شوخی نِم (نیم) نے اپنی ہریالی اور خوشحالی سے سجا رکھا تھا۔ ہمیںنمولیوں اور جھولے کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ، اس نِم کا سایہ پورے گاؤں کی خواتین کے لیے ایک تفریحی و تشریحی پلیٹ فارم بھی تھا۔ گرمی کی دوپہروں میں راحت اور استراحت کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے کام، ہر طرح کے مشورے، ٹوٹکے، عیادت، عبادت، حکمت، لین دین، رشتے ناطوں کی تفاصیل، شکوے شکایتوں کی زنبیل، پوٹا سوَیّاں، ٹوٹا چغلیاں، ُاَج کیہہ پکائیے‘ والے منصوبے، اسی کی چھتر چھاؤں میں پروان چڑھتے تھے۔ صحن کے آخر میں ایک ہتھ نلکے یعنی ہینڈ…

