کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں ۔ ڈاکٹر عزیزہ انجم
براہ کرم اس مواد کو دیکھنے کے لئے لاگ ان کریں۔
براہ کرم اس مواد کو دیکھنے کے لئے لاگ ان کریں۔
کھلے ہیں دریچے حضور آگئے ہیں
چھٹے ہیں اندھیرے حضور آگئے ہیں
صفا کی پہاڑی ہے پہلی گواہی
یہ دنیا بدلنے حضور آگئے ہیں
نبوت کا مہتاب چمکا زمیں پر
ہیں روشن اجالے حضور آگئے ہیں
خبر تھی کہ احمد کی آمد بھی ہوگی
ہیں سچے صحیفے حضور آگئے ہیں
مدینے کی گلیاں صدا دے رہی ہیں
نصیب اپنے جاگے حضور آگئے ہیں
محبت ہے سب سے محبت بھی ایسی
صحابہ ہیں صدقے حضور آگئے ہیں
حبیبِ خدا ہیں مکاں لامکاں ہے
ہیں جبریل آگے حضور آگئے ہیں
فرشتوں کی دنیا میں ہلچل مچی ہے
فلک سج گیا ہے حضور آگئے ہیں
قیامت کا دن ہے شفاعت کا دن ہے
سنیں گے وہ نالے حضور آگئے ہیں
درد
نہاں خانہِ دل میں چٹکیاں لے رہا ہے
بالکنی سے جھانکتی
زرد اور سفید معصوم پھولوں کی قطار
ہرے چھوٹے بڑے پتے
اور ان کو چھیڑتی ہوا بھی
مسکراہٹ کے گلے پر رکھا ہاتھ
ہٹنے نہیں دیتی
آنسو نہ جانے کہاں
بہے چلے جارہے ہیں
گرے چلے جارہے ہیں
ایسا لگتا ہے
سارا آنگن گیلا ہو گیا ہے
میز پر جیم کی ڈھکن ہٹی بوتل
ٹوسٹر میں سکی ہوئی سفید ڈبل روٹی
انڈے کی کچی پکی زردی
دھواں اٹھتی عنابی چائے
سب کچھ یونہی رکھا ہے
بچے کہاں کھاتے ہیں
مائیں دیوانی بنی رہتی ہیں
ناشتہ کتنا ضروری ہے
بچے نہیں سمجھتے
بادل بہت زور سے گرجا ہے
مینہ برسا ہے
کچھ ٹوٹا ہے
ستارہ یا فلک
شہر زیتون میں
سیاہ اور نیلی آنکھیں
گھنگھیریالے بال
اوررنگین پھولوں والی فراکیں
ننگے پیروں
پیالہ تھامے کھڑی ہیں
روٹی کا لقمہ
پانی کا جرعہ
ان کے حصے میں کب آئے گا
ستارہ لکھوں یا کہکشاں….
روشنی اتنی تابناک کہ ایک دنیا منور ۔علم کی ،شعور کی ،آگہی کی….مردوں کی دنیا میں صاحبِ علم و دانش پروفیسر خورشید اسلامی تحریک کا روشن چراغ تھے ۔وہ چراغ جو اپنی کارگزاری مکمل کر چکا ۔ایک دنیا جن کی معترف ہے ۔اسلامی جمیعت طلبہ کی نظامت اعلیٰ ،اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر،ادارہ ترجمان القرآن…. ان کی تحریریں ان کی دانشورانہ خطابت ….ہر حوالے سے اسلامی تحریک کے لیے علم و دانش کا سرمایہ…. وہ چراغ جو مٹی کے نیچے بطور امانت رکھ دیا گیا ۔
صاحبانِ علم و عمل کی ایک قطار ہے جو اپنے حصے کا فرض ادا کرکے زمین اوڑھ کر جا سوئی کہ قدردان رب کے حضور پیش ہونے اور اپنا اجر پانے کا انتظار ہے ۔
کتنے ہی ستارہ صفت تھے جو کہکشاں بن گئے ….اور اس دنیا میں روشنی بڑھا گئے ۔
مئی کے انہی گرم دنوں میں ایک اور چاند چہرہ امریکہ کے شہرمیں آخری سفر پر روانہ ہو گیا ۔پاکستان،دمام اور امریکہ ….جہاں جہاں ان کے نیک قدم گئے روشنی سی روشنی ہو گئی۔ان کے گرد ان کے عقیدت مندوں،ان سے علم و دانائی سمیٹنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ۔
وہ ایک نام جس کے بہت سے معتبرحوالے….ERI،عثمان پبلک اسکول سسٹم،انسپریشن اسکول…

